قائد اعظم مزار مینجمنٹ بورڈ

منسٹری آف انفارمیشن ، بروڈکاسٹینگ اینڈ نیشنل ہیریٹج
نیشنل ہیریٹجااینڈ انٹیگریشن ونگ،گورمنٹ آف پاکستان

:مزارِ قائد کمپلیکس

مزار کا احاطہ
مزار کی عمارت کیلئے مجموعی طور پر 131.71 ایکڑ اراضی مختص کی گئی تھی۔ 61 ایکڑ رقبے پر باغِ قائدِ اعظم تعمیر کیا گیا جبکہ بقایا 70.58 ایکڑ بیرونی اراضی پر مشتمل ہے جس میں مستقبل کے ترقیاتی کاموں کیلئے رکھی گئی اردگرد واقع سڑکیں بھی شامل ہیں۔ اِسکی تفصیل کچھ اِس طرح ہے

    61.253 ایکڑ : مزار کا مرکزی حصہ (1
    35.277 ایکڑ : جنوبی زون (2
    2.967 ایکڑ : جنوب مشرقی زون (3
    15.364 ایکڑ : مشرقی زون (4
    0.487 ایکڑ : نظامی روڈ کا پلاٹ (5
    16.37 ایکڑ (+) : اردگرد کی سڑکیں (6
    131.71 ایکڑ  : کُل

مزار کی مرکزی عمارت
بابائے قوم کی وفات کے بعد قائدِ اعظم میموریل فنڈ قائم کیا گیا۔پاکستان کے عوام نے اُس وقت کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کی جانب سے کی گئی فنڈ کی اپیل پرنہایت پُرجوش انداز سے لبیک کہا ۔ جس مقام پر آج مزارِ قائد واقع ہے وہاں بھارت سے آنے والے بے خانماں مہاجرین کی جھونپڑیاں تھیں۔ اُن سے استدعا کی گئی کہ مزارِ قائد کیلئے مختص یہ جگہ خالی کردیں ۔ اپنے محترم قائد سے والہانہ عقیدت کے پیش نظر وہ پہلے ہی یہاں سے نقل مکانی شروع کرچکے تھے۔اُنہیں کراچی کے دیگر علاقوں میں زمینیں الاٹ کردی گئیں۔ عوام کی جانب سے وفاقی و صوبائی سطح پر اور قائدِ اعظم میموریل فنڈ میں کثیر تعداد میں عطیات موصول ہوئے۔
(مزید اور)


باغِ قائدِ اعظم
باغِ قائدِ اعظم (BQA) کی سرسبزی و شادابی ماحول کی دلکشی میں اضافہ کرتی ہے۔ باغات اور فوارے ہمیشہ سے انسان کیلئے تسکین بخش رہے ہیں اِسی لیے زمانۂ قدیم سے ہی بادشاہوں اور اُمراء کی طرح عام افراد بھی باغات تعمیر کراتے آئے ہیں۔ بابل کے معلق باغات کے بارے میں ہم سبھی جانتے ہیں جو اپنی دل آویزی اور اعلیٰ تعمیراتی اقدار کے علاوہ دورانِ تعمیر ہونے والی عظیم محنت و جفاکشی کے باعث بھی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہیں سات عجائباتِ عالم میں شمار کیا جاتا ہے۔
(مزید اور)